سنتے ہیں کہ محشر میں صرف اُن کی رسائی ہے
گر اُن کی رسائی ہے لو جب تو بن آئی ہے
---------------------------------
غلام اُن کی عنایت سے چین میں ہوںگے
عدو حضور کا آفت سے مبتلا ہوگا
میں اُن کے در کا بھکاری ہوں فضلِ مولیٰ سے
حسن فقیر کا جن٘ت میں بسترا ہوگا
---------------------------------
مچلا ہے کہ رحمت نے امید بندھائی ہے
کیا بات تِری مجرم کیا بات بنائی ہے
سب نے سرِ محشر میں للکار دیا ہم کو
اے بے کسوں کے آقا اب تیری دہائی ہے
اب آپ سنبھالیں تو کام اپنے سنبھل جائیں
ہم نے تو کمائی سب کھیلوں میں گوائی ہے
بازارِ عمل میں تو سودا نہ بنا اپنا
سرکارِ کرم تجھ میں عیبی کی سمائی ہے
یوں تو سب انھیں کا ہے پَر دل کی اگر پوچھو
یہ ٹوٹے ہوئے دل ہی خاص اُن کی کمائی ہے
مجرم کو نہ شرماؤ احباب کفن ڈھک دو
منھ دیکھ کے کیا ہوگا پردے میں بھلائی ہے
طیبہ نہ سہی افضل مکہ ہی بڑا زاہد
ہم عشق کے بندے ہیں کیوں بات بڑھائی ہے
اے دل یہ سلگنا کیا جلنا ہے تو جل بھی اٹھ
دَم گھٹنے لگا ظالم کیا دھونی رمائی ہے
حرص و ہوسِ بد سے دل تو بھی ستم کرلے
تو ہی نہیں بے گانہ دنیا ہی پرائی ہے
مطلع میں یہ شک کیا تھا واللہ رضا واللہ
صرف اُن کی رسائی ہے صرف اُن کی رسائی ہے
صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ وسلم
No comments:
Post a Comment