Sunday, September 10, 2017

تو شمع رسالت ہے عالم تیرا پروانہ


تو شمع رسالت ہے عالم تیرا پروانہ
تو ماہ نبوت ہے اے جلوہ جاناناں

جو ساقی کوثر کے چہرے سے نقاب اٹھے
ہر دل بنے میخانہ ہر آنکھ ہو پیمانہ

سرشار مجھے کر دے اک جام لبالب سے
تا حشر رہے ساقی آباد یہ مے خانہ

دل اپنا چمک اٹھے ایمان کی طلعت سے
کر آنکھیں بھی نورانی اے جلوہ جاناناں

اس در کی حضوری ہی عصیاں کی دوا ٹھری
ہے زہر معاصی کا طیبہ ہی شفاء خانہ

کیوں زلف معنبر سے کوچے نہ مہک اُٹھیں
ہے پنجۂ قدرت جب زلفوں کا تری شانہ

گر پڑ کے یہاں پہنچا مر مر کے اسے پایا
چھوٹے نہ الہی اب سنگ در جاناں

پیتے ہیں تیرے در کا کھاتے ہیں تیرے در کا
پانی ہے تیرے پانی کا کھانا ہے تیرا کھانا

ہر پھول میں بو تیری ہر شمع میں ضو تیری
بلبل ہے تیرا بلبل پروانہ ہے پروانہ

سرکار کے جلووں سے روشن ہے دل نوری
تا حشر رہے روشن نوری کا یہ کاشانہ

صلی اللہ علی محمد و صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ وسلم

No comments: