تو شمع رسالت ہے عالم
تیرا پروانہ
تو ماہ نبوت ہے اے
جلوہ جاناناں
جو ساقی کوثر کے چہرے
سے نقاب اٹھے
ہر دل بنے میخانہ ہر
آنکھ ہو پیمانہ
سرشار مجھے کر دے اک
جام لبالب سے
تا حشر رہے ساقی آباد
یہ مے خانہ
دل اپنا چمک اٹھے
ایمان کی طلعت سے
کر آنکھیں بھی نورانی
اے جلوہ جاناناں
اس در کی حضوری
ہی عصیاں کی دوا ٹھری
ہے زہر معاصی کا
طیبہ ہی شفاء خانہ
کیوں زلف معنبر سے
کوچے نہ مہک اُٹھیں
ہے پنجۂ قدرت جب
زلفوں کا تری شانہ
گر پڑ کے یہاں پہنچا
مر مر کے اسے پایا
چھوٹے نہ الہی اب سنگ
در جاناں
پیتے ہیں تیرے در کا
کھاتے ہیں تیرے در کا
پانی ہے تیرے پانی کا
کھانا ہے تیرا کھانا
ہر پھول میں بو تیری
ہر شمع میں ضو تیری
بلبل ہے تیرا بلبل
پروانہ ہے پروانہ
سرکار کے جلووں سے
روشن ہے دل نوری
تا حشر رہے روشن نوری
کا یہ کاشانہ
صلی اللہ علی محمد و
صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ وسلم
No comments:
Post a Comment